Sep 14, 2020

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) اور پولیس، عوام ساتھ ساتھ پروگرام کے اشتراک سے پارلیمانی ورکنگ گروپ نے وفاق اور صوبوں میں پولیس اصلاحات سے متعلق پوزیشن پیپر جاری کر دیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے پولیس اصلاحات کے ذریعے ادارہ سازی پر زور دیا، قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پولیس اصلاحات کے لئے تحقیق پر مبنی قانون سازی کی جائے گی، کسی بھی ریاست میں پولیس کا شعبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے اثرات براہ راست قانون کی حکمرانی پر پڑتے ہیں، پاکستان کو دنیا میں کم پرامن ممالک کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ پولیس اصلاحات نہ ہونا ہیں ایسی صورتحال میں ہنگامی طور پر تذویزاتی اقدامات اور موجودہ حالات

کو بہتر بنانا ہو گا۔

 

قانون سازوں اور پولیس افسران کے ’’پولیس اصلاحات‘‘ سے متعلق پارلیمانی ورکنگ گروپس نے طویل مشاورتی عمل کے بعد یہ سفارشات پیش کیں ہیں جو کہ

گذشتہ روز سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) نے ’’پولیس ریفارمز پرپوزیشن پیپر‘‘ کی صورت میں ہیں۔ ایک عالمی معروف پروگرام پولیس عوام ساتھ ساتھ کے اشتراک سے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر یہ پوزیشن پیپر جاری کیا گیا ہے۔

 

اس پراجیکٹ کے تحت قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو پولیس اصلاحات کے لئے جدید تحقیقی طریقہ کار اور ضروری قانون سازی

کے لئے معاونت فراہم کرنا ہے۔ پوزیشن پیپر میں پولیس اصلاحات اور پولیسنگ کے درمیان فرق کی نشاندہی کی گئی ہے اور پولیس اصلاحات کو پولیس کے تنظیمیوں پہلوئوں سے کرنے پر زور دیا گیا ۔پوزیشن پیپر میں پولیس خدمات جس میں مقدمات کا اندراج، تفتیش کا طریقہ کار، ضمانت ،ریمانڈ ، مقدمات کی سماعت کا طریقہ کار، مجرموں اور نابالغوں کے ساتھ ساتھ سلوک، خواتین پولیسنگ، کمیونٹی پولیسنگ اور پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اراکین پارلیمنٹ اور پولیس افسران نے اپنی سفارشات کہا کہ خواتین پولیس اسٹیشنوں کا قیام یقینی بنایا جائے اور اس شعبے میں خواتین کی تعداد کو بڑھانے کے

لئے اقدمات اٹھائے جائیں تا کہ زیادہ سے ذیادہ خواتین اس شعبے میں شامل ہو کر خواتین کے ساتھ تفتیش میں بہتر ماحول فراہم کر سکیں۔ پولیس انویسٹی گیشن کے بارے میں سفارشات میں عملی مہارت ، تحقیقات کے لئے ہر ممکن جدید وسائل کی فراہمی، شواہد پر مبنی گرفتاریوں، بہتر پولیس پراسیکیوشن اورفرانزک تعاون پر زور دیا گیا۔

اراکین پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ مقدمات کے اندراج کو مزید سادہ اور آسان بنانے کے ساتھ ساتھ تفتیشں کرنے والے پولیس افسران اور جوانوں کی بھی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے، انسانی حقوق کو یقینی بنانے اور قانون امور کے مطابق امور چلائے جائیں۔ انہوں نے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے مرکوز تحقیقاتی اقدامات کے لئے تھانوں میںالگ اور خصوصی تحقیقاتی ونگ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

پوزیشن پیپر میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی لاگت میں اضافے ، پیشہ ورانہ آڈٹ کے ساتھ ساتھ، اخراجات کو آسان اور مکمل طور پر چیک اینڈ بیلنس یقینی بنایا جائے ، ڈویژنل اور صوبائی ہیڈ کوارٹر کی بجائے جرائم کے مقام پر تحقیقات کے تمام مراحل مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اس دستاویز پر عمل درآمد کے لئے ہر سطح پر مخلصانہ کوششیں ضروری ہیں ۔رپورٹ کے مطابق گلوبل رول آف لاء انڈیکس 2020ء میں پاکستان 128 میں سے 120 اور عالمی امن انڈیکس 2020ء میں 163 میں سے 152 نمبر پر ہے۔

آرڈر اور سکیورٹی کے لحاظ سے یہ 126/128 پر کھڑا ہے۔ پولیس سے متعلق قوانین اور پالیسیاں تیار کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں پولیس اصلاحات کے لئے ان سفارشات پرصوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین ایوان میںآواز بلند کریں گے اور ضروری قانون سازی کے لئے تحقیقی راہنمائی حل کریں گے۔

پارلیمانی ورکنگ گروپ نے وفاق اور صوبوں میں پولیس اصلاحات سے متعلق پوزیشن پیپر جاری کر دیا