March 08, 2021

Report on Violence against Women and Children released.

سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی سالانہ رپورٹ جاری کردی۔


ایس ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے (1ہزار 422 مقدمات)، خواتین کیخلاف تشدد (9ہزار 401 واقعات)، ریپ کے (4ہزار 321 واقعات)، خواتین و بچوں کے اغوا (15ہزار 714 مقدمات) جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے (2ہزار 556 مقدمات) درج ہوئے۔


رپورٹ کے مطابق پنجاب کو خواتین اور بچوں سے متعلق خطرناک ترین صوبہ قرار قرار دیا گیا جبکہ سندھ دوسرے، اسلام آباد تیسرے اور خیبرپختونخوا کو چوتھا خطرناک ترین علاقہ قرار دیا ہے۔


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چائلڈ لیبر کے متعلق میڈیا پر 36کیسزرپورٹ ہوئے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 117 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ اسی طرح بچوں سے بدفعلی اور ریپ کے میڈیا پر 1ہزار 618 کیسز جبکہ سرکاری طور پر 1ہزار 980 کیسز رپورٹ کیے گئے۔


اس رپورٹ میں خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے مختلف جرائم کے واقعات کے بارے میں سی ایس اوز ، میڈیا ، پالیسی سازوں کو ڈیٹا کے ثبوت پر مبنی رجحانات فراہم کیے گئے ہیں۔ چائلڈ رائٹس ماہر سعدیہ حسین


پاکستان میں سال 2020 پہلے نصف حصے (جنوری تا جون 2020) کے مقابلے میں ، سال 2020 (جولائی تا دسمبر 2020) کے دوسرے نصف حصے کے دوران بچوں اور خواتین کے حقوق پامالی کے واقعات میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا


https://www.samaa.tv/urdu/pakistan/2021/03/2211404/