12 May 2022

حراسیت کیخلاف قانون سازی کے باوجود اطمینان بخش صورت حال پیدا نہیں ہو سکی، راہنماؤں کی پریس کانفرنس


اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) ورکنگ ویمن کوطے شدہ کم از کم تنخواہ بھی نہ دیئے جانے کی شکایت عام ہے،حراسیت کیخلاف قانون سازی کے باوجود اطمینان بخش صورت حال پیدا نہیں ہو سکی، خواتین کے حقوق کا تحفظ سرفہرست ترجیح ہے۔ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے کی ضرورت ہے۔ لیبر ڈےکی مناسبت سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ورکنگ ویمن کو درپیش مشکلات اور انکے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے، ویمنز ورکرز الائنس کی مہر نگار، مسرت جبیں،زاہدہ اوراین پی سی کی سیکرٹری فنانس نیئر علی زاہدہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےپائیدار ترقی سے متعلق غیر سرکاری سماجی تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے خواتین وکلاء کو بھی مشترکہ پلیٹ فارم پر شمولیت کی دعوت دی۔ مہر نگار کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے حالات کار دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اگر یہاں یہ صورتحال ہے تو پھر ملک کے باقی علاقوں میں کیا حالات ہونگے۔ مسرت جبیں اور زاہدہ نے بھی خطاب کیا۔ این پی سی کی سیکرٹری فنانس نیئر علی کا کہنا تھا کہ خواتین کی کم تنخواہوں کے مسائل موجود ہیں۔

URL: https://jang.com.pk/news/1085138