21 Jul 2022

پاکستان کی انسانی سوداگری سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ،عالمی فہرست میں دوسرے درجے پرآ گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جولائی2022ء) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی انسانی سوداگری سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ،عالمی فہرست میں دوسرے درجے پرآ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی رواں ماہ شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کی انسانی سوداگری کے خاتمے کی کوششوں کی وجہ سے صوتحال میں نمایاں بہتری آرہی ہے اور اب اسے ٹیئر 2 میں رکھا گیا ہے، اس سے قبل محکمہ خارجہ کے دفتر برائے نگرانی اور انسانی سوداگری نے پاکستان کو 2020 میں "ٹیئر 2 واچ لسٹ" میں رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے انسانی سوداگری کے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی سوداگری کا شکار افراد ، خاص طور پر جبری مشقت اور جسم فروشی کے لیے بطور ذریعہ، ٹرانزٹ، اور منزل استعمال ہوتا ہے ۔
پچھلے کئی سالوں سے جاری امریکی TIP رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اندرونی سوداگری، خاص طور پر جبری مشقت، پاکستان کے لیے ایک حقیقی چیلنج ہے اور اسی وجہ سے امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے انسانی سوداگری کی نگرانی اور انسداد نے پاکستان کو 2020 میں "ٹیئر 2 واچ لسٹ" میں رکھا ہے اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے اور فراہم کردہ سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک "ٹیئر 3" پر آ سکتا ہے۔
تاہم حکومت پاکستان نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور بہترکوششیں کیں جس کی وجہ سے 19 جولائی 2022 کو شائع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے انسانی سوداگری کی نگرانی اور روک تھام کی رپورٹ کے مطابق "ٹیئر 2" کی طرف پیشرفت ہوئی۔رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح حکومت نے گزشتہ رپورٹنگ کی مدت کے مقابلے میں مجموعی طور بہتر کوششوں کا مظاہرہ کیا، اس کی ؛ لہٰذاپاکستان کو ٹیئر 2 میں اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔
ان کوششوں میں 2018 پرسنشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ (PTPA)کے تحت تفتیش، استغاثہ اور سزاؤں میں اضافہ شامل ہے۔ حکومت نے نہ صرف زیادہ متاثرین کو تحفظ کی خدمات کے لیے ریفر کیا بلکہ حکومت کے صوبائی محکموں نے متاثرین کی شناخت اور حوالہ دینے کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے نفاذ میں اضافہ کیا اور مزید اسٹیک ہولڈرز کو تربیت دی۔ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وسائل مختص کیے اور PTPA میں ترمیم کی تاکہ ان دفعات کو ختم کیا جا سکے جو خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی اسمگلنگ کے جرائم کے لیے قید کے بدلے جرمانے کی اجازت دیتے تھے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی ا و سید کوثر عباس نے کہا کہ مختلف سطحوں پر حکومت کے ساتھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سمیت مختلف محکموں کے ساتھ تعاون کرکے اس مقصد میں حصہ ڈالنے اور اس عمل کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ معاشرے اور مجموعی طور پر ملک کے لیے ہمارے تعاون میں اضافہ کرتے ہوئے، پائیدار سماجی ترقی کی تنظیم نے حال ہی میں ایک ہیلپ لائن "0333-1110566" شروع کی ہے جو کہ ملکی سطح پر اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک اہم قدم ہے اور ساتھ ہی عام لوگوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے معلومات کا ذریعہ ہے۔
یہ ہیلپ لائن ممکنہ متاثرین خاص طور پر ان کمیونٹیز کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی جن میں مجموعی طور پر انسانی سوداگری کا تناسب بہت زیادہ ہے ان میں پاکستان میں اینٹوں کے بھٹے اور زرعی فارمز وغیرہ شامل ہیں۔ متاثرین یا ان کے لواحقین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے ماہر وکلائ کی ٹیم ان کی شکایت پر مزید کارروائی کرے گی ۔ کام کے دنوں میں صبح 9.00 بجے سے شام 6.00 بجے تک ہیلپ لائن تک مفت رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ SSDO اس گھناؤنے جرم کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنے اور حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے پروجیکٹ چلا رہا ہے اور اس مسئلے کو اٹھانے اور اس پر قابو پانے کے لیے اسٹیک ہولڈر ورکنگ گروپس تشکیل دے کر اور تمام گروپوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے صلاحیت سازی کے سیشنز کا اہتمام کررہا ہے تاکہ اس مسئلے کو روکنے میں سب اپنا کردار ادا کریں اور آگاہی کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔انہو ں نے اس سلسلے میں حکومتی اقدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

News Link:
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2022-07-21/news-3210189.html